ہم ایک خدا کے بندے ہیں
Poet: امجد علی عاجز By: امجد علی عاجز, Karachiہم ایک خدا کے بندے ہیں
اور ایک جہاں میں بستے ہیں
رب بھی چاہے جب ساتھ رہیں
پھر کیوں آپس میں لڑتے ہیں
نفرت نہ ہو کسی بھی مذہب سے
ہو پیار ہمیں بے حد سب سے
نہ دل سے کسی کا سوچیں برا
نہ بولیں برا اپنے لب سے
نفرت نہ ہو دنیا والوں سے
نہ گوروں سے نہ کالوں سے
نہ ان سے جو دنیا چھوڑ چلے
اور نہ اب آنے والوں سے
نفرت نہ ہو کسی زبانوں سے
کسی قوم کے بھی انسانوں سے
اڑتے پنچھی پروانوں سے
نہ دھرتی کے حیوانوں سے
ہم سب سے محبت کرتے رہیں
بس عرض یہ عاجز کرتے رہیں
ساری دنیا سے پیار کرو
نہ ظلم کسی پر یار کرو
ہم ایک خدا کے بندے ہیں
اور ایک جہاں میں بستے ہیں
رب بھی چاہے جب ساتھ رہیں
پھر کیوں آپس میں لڑتے ہیں
امجد علی عاجز
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






