ہم اور کانچ کا گلدان
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiکمرے کی میز پررکھا ہوا
کانچ کا اک خوبصورت گلدان
ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والے
ہواکے تیز جھونکے کی زد میں آکر
گلدان کا میز پر سے گرنا
ایک چھنناکے کی آواز کا ابھرنا
کانچ کا فرش پر بکھرنا
ان سنی، کسی کی آہ کا بھرنا
پاس ہی کھڑی ذی روح کا چیخنا
اس شور شرابے کے درمیاں
گلدان کا ٹوٹنا اور سمٹنا
(جیسے کفن دفن جنازے کا اٹھنا)
اور پھر خاموشیوں میں سسکیوں کا ابھرنا
پھر سب ویسا ہی جیسا گلدان کے ہوتے ہوئے تھا
سرگوشیوں سے آہستہ آہستہ آوازوں کا ابھرنا
یوں سمجھ لیجئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا
بس میز خالی تھی جوکہ چارپائی جیسی تھی
وہ کھڑکی کس نے ادھ کھلی چھوڑی تھی
جیسے میز کی آنکھیں ہوں
اور وہ ہوا کے جھونکے سے سوالی ہوں
وہ جسے ابتک بہت سنبھال رکھا تھا
وہ گلدان اب میز پر نہیں تھا
جیسے کوئی ذی روح منوں مٹی تلے دبا دیا گیا ہو
کبھی نا جاگنے کیلئے، کبھی نا کچھ کہنے کیلئے
خاموشی سے سوگیا ہو
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






