ہر سمت سالِ نو کی ہوا چل پڑی ہے دوست
Poet: حمید اللّٰہ خان حمید By: حمید اللّٰہ خان حمید, Bhalwalہر سمت سالِ نو کی ہوا چل پڑی ہے دوست
ماضی میں رہ گئی، جو مری زندگی ہے دوست
دیتا ہے درد،جو بھی نیا سال آتا ہے
بُننے لگی یہ پھر سے غموں کی لڑی ہے دوست
سوچا تری خوشی میں کروں کچھ اضافہ میں
یعنی کہ میری زندگی کم ہو گئی ہے دوست
ہر سمت روشنی ہے چراغاں ہے شہر میں
سنسان میرے دل کی مگر ہر گلی ہے دوست
ہر شب کو اس زمیں سے تجھے دیکھتا ہوں میں
تُو چاند بن کے عرش پہ کیا کر رہی ہے دوست
ہر سانس مجھ سے چھین کے اب پوچھتی ہے وہ
مرنے کی اتنی جلدی تجھے کیوں پڑی ہے دوست
تیری خوشی کے آگے مرے غم کی کیا بساط
تو خوش ہے اس لیے مجھے بے حد خوشی ہے دوست
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






