ہجر غم کرب میں تنہائی رلاتی ہوگی
Poet: By: AB shahzad, Mailsiہجر غم کرب میں تنہائی رلاتی ہوگی
یاد میری بھی اسے پھر تو ستاتی ہوگی
اے ہوا جا کے خبر میرے صنم کی لانا
پاس توں اس کے گزر کے ہی تو جاتی ہوگی
کوئی مخلص مل اگر جائے تو پھر کیا کہنے
اپنے چہرے کو آنچل سے چھپاتی ہوگی
ہوتی ہوگی کبھی دستک کوئی دروازے پر
دوڑی بھاگی ہوئی دروازے پہ جاتی ہوگی
پیار سے تحفے دیے تھے تو غیمت سمجھے
تیر اپنی تو وہ نظروں کے چلاتی ہوگی
خون سے خط ہی لکھے تھے کبھی اس نے تو مجھے
یاد انگلی کی کٹی ہوئی دلاتی ہوگی
شوق سے گول گپے کھاتی تھی میں لاتا تھا
لا زمی گول گپے لے کے ہی کھاتی ہوگی
پیار کے دیپ جلائے تھے کبھی چاہت سے
اشک آنکھوں سے تو ہروقت بہاتی ہوگی
کیسے شہزاد سکوں ہوگا میسر اس کو
ہاتھ پر نام مرا لکھ کے مٹاتی ہوگی
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






