گُلدستئہ اشعار
Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIان چراغوں میں تیل ہی کم تھا
کیوں گِلہ پھر ہمیں ہَوا سے رہے
میرے کچھ پَل مجھ کو دے دو باقی سارے دن لوگو
تم جیسا جیسا کہتے ہو سب ویسا ویسا ہو گا
میری بنیادوں میں کوئی ٹیڑھ تھی
اپنی دیواروں کو کیا الزام دوں
تھکن سے چُور پاس آیا تھا اس کے
گِرا سوتے میں مجھ پر یہ شجر کیوں
تمہیں بھی یاد نہیں اور میں بھی بُھول گیا
وہ لمحہ کتنا حسیں تھا مگر فضول گیا
ان سے اب واپس خریدوں خود کو میں
لوگ جو مانگیں وہ اپنے دام دوں
اِک کھلونا جوگی سے کھو گیا تھا بچپن میں
ڈھونڈتا پھِرا اس کو وہ نگر نگر تنہا
آگہی سے ملی ہے تنہائی
آ میری جان مجھ کو دھوکا دے
رات سر پر ہے اور سفر باقی
ہم کو چلنا ذرا سویرے تھا
سب ہَوائیں لے گیا میرے سمندر کی کوئی
اور مجھ کو ایک کشتی بادبانی دے گیا
پہلے بھی کچھ لوگوں نے جَو بو کر گیہوں چاہا تھا
ہم بھی اس اُمیّد میں ہیں لیکن کب ایسا ہوتا ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






