کیچڑ کا کنول
Poet: maqsood hasni By: maqsood hasni, kasurآلودہ‘ میلا سا چیتھڑا
شاید حاجت سے بچا ہوگا
آدم زادے کا پراہین‘
عییب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟!
گلاب سے چہرے پر
بلور ایسی‘ دیکھتی آنکھیں
حیرت خوف غم غصہ اورافسوس
جانے کیا کچھ تھا ان میں
سماج کی بےحسی پہ
ان ٹھہری مگر دیکھتی آنکھوں میں
دو بوند‘ لہو سی
صدیوں کے ظلم کی داستان
لیے ہوءے تھیں
اتنی حدت اتنی اتنی تپش کہ
پتھر بھی پگھل کر پانی ہو
ترسی ترسی باہیں
میرے بوبی کی باہیں ایسی ہی تھیں کہ
جب وہ بچہ تھا
تب محبتوں کا حصار تھا
اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خفت ندامت کا حصار
مرے گرد ہے
لمحہ بہ لمحہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داءرہ تنگ ہو رہا ہے
مجھے فنکار سے نسبت ہے
فنکار‘ سب کا درد
سینے کی وسعتوں میں سمو لیتا ہے
اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘
ساکت وجامد
مٹی کے بت کی طرح
خاموش تماشائ تھا
اس نے پکارا آواز دی
احتجاج بھی کیا
کچھ نہ میں کر سکا
جیسے وہ آدم زادہ نہ ہو‘
ہمالہ سے گرا
کوئ پتھر ہو
اس نے کہا:
“فنکار۔۔۔۔۔۔۔!
مجھے اپنی باہوں میں سما لو
ازل سے پیاسا ہوں“
گھبرا کر تھوڑا سا
)پستیوں کی جانب)
پیچھے سرکا
کوئ مصیبت کوئ وبال
تہمت یا بدنامی سر نہ آءے
چیخا “فنکار کا سینہ
کب سے تنگ ہوا ہے؟!
میری باہیں غیر جنس کی باہیں ہیں؟
ان کا تم پر کوئ حق نہیں؟؟؟
وہ کہتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سنتا رہا
کیا جواب تھا میرے پاس
کاش!
میرے شعور کی آنکھیں بند ہو جاتیں
یوں جیسے ممتا کی سماج کی
آنکھیں بند تھیں
سوچتا ہوں‘ مجرم کون ہے
گناہ کس نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔‘
ماں یا سماج نے
وہ تو اپنے گھروں میں
آسودہ سانسوں کے ساتھ
گرم کافی پی رہے ہوں گے
یا میں نے جو
شب کی بھیانک تنہائ میں
ندامت سے
سگریٹ کے دھوءیں میں
تحلیل ہو رہا ہوں
گٹرکے قریب پڑا‘ وہ کنول
مجھ سے میرے ضمیر سے
انصاف طلب کر رہا ہے
کہ تم‘ خداءے عزوجل کی تخلق کا
یہ حشر کرتے ہو
مجھے حرامی کہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
بتاؤ‘ حامی کون ہے؟
ضمیر کس کا مردہ ہے؟
مجرم کون ہے؟
میں یا تم؟؟؟
میری بستی کے باسیو!
کہ تمہیں عظیم مخلوق ہونے کا دعوی ہے
کیا جواب دوں اسے؟
اس کا ننھا سا معصوم چہرا
احتجاج سے لبریزآنکھیں
پنکھڑی سے ہونٹوں پر
تھرکتی بےصدا سسکیاں
مجھے پاگل کر دیں گی
پاگل
ہاں پاگل
اوٹ سے‘ ١٩٩٣
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






