کیا سے کیا
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaدرد کی لکھتا رہا ہے یہ کہانی کیا سے کیا
دن دِکھائے فرد کو آنکھوں کا پانی کیا سے کیا
سب کے سب برباد کر لینے میں حصّہ دار تھے
ترش لہجہ، ٹیڑھی چالیں، نوجوانی، کیا سے کیا
مَیں کہاں احسان ان کے بھول سکتا ہوں کبھی
کیا کرم فرمائیاں تھیں، مہربانی کیا سے کیا
میں نے اپنے عہدِ برنائی میں کی ہیں محنتیں
برف، قلفی، تِل کے لڈّو، شتربانی کیا سے کیا
دیس کو کس موڑ پر چھوڑا ہے لا کر غاصبو!
اور دعوے کر رہے ہو منہ زبانی کیا سے کیا
عاشقی کی "عین" سے بھی ہم ابھی نا آشنا
کر گئے ہیں سسّیؔ پنّوںؔ، ہیرؔ، ہانیؔ کیا سے کیا
ہم کو دعویٰ تھا بڑا آہن مزاجی کا کبھی
کر گئی جادو مگر یہ رُت سہانی کیا سے کیا
ہم نے طوفانوں میں کشتی کو سمندر میں رکھا
وقت نے دیکھی ہماری بادبانی کیا سے کیا
ہم حقیقت آشنا ہوتے تو ہیں حسرت رشیدؔ
پر دکھائے ہم کو دنیا آنی جانی کیا سے کیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






