کھلی ہے آنکھ حقیقت کی ، اِنتقال کے بعد

Poet: Shabbir Nazish By: Shabbir Nazish, Karachi

کھلی ہے آنکھ حقیقت کی ، اِنتقال کے بعد
میں زندگی! تجھے سمجھا ہوں دیکھ بھال کے بعد

تو میری روح ، مرا عشق ہے نِڈر ہو جا
شجر نہیں ہوں کہ بدلوں لباس سال کے بعد

مرے عدو کے ارادے تمام خاک ہوئے
جب اور عجز میں آیا میں اشتعال کے بعد

تری جدائی کے صدمے نے کر دیا پاگل
رہا ملال نہ کوئی ترے ملال کے بعد

تم اِس طرح سے اگر حوصلہ بڑھاتے رہے
بڑے کمال کروں گا میں اِس کمال کے بعد

پھر اُس کی آنکھیں ندامت کے اشک لے ڈوبے
دلِ تباہ سے اُٹھتے ہوئے سوال کے بعد

ترے جنوں نے تجھے سُرخ رُو کیا نازش
تجھے عروج ملا ضبطِ بے مثال کے بعد
 

Rate it:
Views: 1711
19 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL