کوئی پوچھے تو سہی
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreنجانے وہ کس راہ سے گزرا، ہمیں تو کوئی بھی نشاں نہ ملا
عمر ہوئی ہے گھر سے نکلے، پھر کبھی اپنا مکاں نہ ملا
پاؤں چھالوں سے اٹ تو گئے تھک کے کہیں پھر بیٹھے نہیں
بس چلتے رہنا یہ حکم ملا تھا، رکنے کا کہیں فرماں نہ ملا
میں غموں سے،غم مجھ سے ملے، پھر مل کے خوش ہوئے دونوں
ایسی دولت پائی ہے میں نے، کھونے کا جسے کوئی امکاں نہ ملا
کوئی پوچھے تو سہی، کیا حالات رہے، کس کرب سے گزر کے آئے ہیں
آندھیاں تو ہزار ملیں ، صد شکر کہ کوئی بھی طافاں نہ ملا
سمجھا رہے ہیں لوگ مجھے، بکھر چکے ہو سمیٹ لو خود کو
کہاں میں کھویا، خبر نہیں ہے، مجھے تو اپنا کوئی نشاں نہ ملا
رینگتے رہتے تو کیا برا تھا، برا ہوا جو اڑ گئے تھے
عجب شوق تلاش تھی یہ، آسماں سے گزر کے آسماں نہ ملا
میں تنہائی کو ڈھونڈنے نکلا، قیامت کا سا شور ہر جا
شہر تو خیر شہر ہے زلفی، جنگل بھی کوئی ویراں نہ ملا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






