کــوئـــی جـائـــــے طـــور پہ، کہاں اب وہ خـوش نــظـری رہی
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکــوئـــی جـائـــــے طـــور پہ، کہاں اب وہ خـوش نــظـری رہی
نہ وہ ذوق دیـــدہ وری رہا ، نہ وہ شـــان جـــــلـوہ گـــری رہی
جو خلش ہو دل کو سکوں ملے ، جو تپش ہو سوز دروں ملے
وہ حـیات اصـل میں کـچھ نہیں ، جو حیات غم سے بری رہی
وہ خــزاں کــی گـــرم روی بـڑھــی تو چمن کا روپ جھلس گیا
کـــوئی غــنـچہ سر نہ اٹھا سکا ، کوئی شاخ گل نہ ہری رہی
مـــجــــھے بـس تــرا ہــــی خـــیال تھا تـرا روپ مــیرا جمال تھا
نہ کـــبھـی نــگاہ تھـی حــور پر ، نہ کـبھی نظر میں پری رہی
تـرے آسـتـاں ســــے جـــدا ھــوا تـو سـکـونِ دل نہ مجھے ملا
مـری زنـــدگـــی کـــے نـصـیـب مـیـں جـو رہی تو در بدری رہی
جــو تـرے خـــیال مـیـں گــم ھــوا تـو تـمام وسوسـے مٹ گئے
نہ جۤــنوں کــی جـامہ دری رہــی ، نہ خـرد کی درد سری رہی
مـــجـھے بــنـدگـــی کا مــزا مـلا ، مــجــھے آگــہی کا صلہ ملا
ترے آســــتانِ ناز پـر ، جـو دھــــــری جـبـیـں تــو دھـــــری رہی
یہ مــہ و نـــجـــوم کـــی روشـنی ترے حـسن کا پرتو بدل نہیں
ترا ہــــجـر ، شب کا سہاگ تھا ، مرے غم کی مانگ بھری رہی
رہِ عـــشـق مـیں جـو ھـوا گزر ، دل و جاں کی کچھ نہ رہی خبر
نہ کـــــوئــــی رفــیـق نہ ہم سـفر ، مرے سـاتھ بے خــبری رہی
ترے حاســــدوں کـو مـــلال ھــے ، یہ نـــصــــــیـر فن کا کمال ہے
ترا قـــــول تھا جو ســـــــند رہا ، تری بات تھی جــو کـھـــری رہی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






