کشمیر اے کشمیر
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliکشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
برستے ہوئے دیکھ کے تجھ پہ ظلم و ستم کے تیر
کبھی تو جاگے گا ، سویا ہوا اقوام عالم کا ضمیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
آزادی کے لئے تم ڈٹے رہو ، لگے رہو
ٹوٹے گی اک دن ، غلامی کی ہر اک زنجیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
برسوں سے جو سجا ہے سپنا ہر اک آنکھ میں
دیکھیں گے اللہ کے کرم سے اُس کی سب تعبیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
ہر بوڑھے ، ہر جوان اور ترے ہر اک بچے نے
آزادی کی خاطرکب سے اُٹھا رکھی ہے شمشیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کبھی نہ رکنا، کبھی نہ جھکنا اور کبھی نہ بکناکاشف
اپنی ہمت سے خود بنانا تم اپنی قسمت کی لکیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کشمیر اے کشمیر ، کشمیر اے کشمیر
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






