کسی آواز کا مجھ کو سہارا تک نہیں تھا

Poet: سید سلمان حیدر نقوی By: Salman Naqvi, Lahore

کسی آواز کا مجھ کو سہارا تک نہیں تھا
میرے اندر میرے سوا کوئی دوسرا تک نہیں تھا

میں اپنی ذات کے صحرا میں تنہا چل رہا تھا
میری منزل کا کوئی رستہ دور تک نہیں تھا

بہت چاہا کہ رکھ دوں سر کسی کے شانے پر اک پل
مگر قسمت میں ایسا کوئی شانہ تک نہیں تھا

میرے ہونٹوں پہ ٹھہری تھی فقط خاموش سی ہنسی
میری آنکھوں میں جو گزرا، وہ کسی نے پڑھا تک نہیں تھا

میں اپنے زخم سینے میں لیے پھرتا رہا برسوں
میرا دکھ میرے چہرے سے مگر چھپا تک نہیں تھا

میں خود کو تھام کر بیٹھا رہا ٹوٹا ہوا اندر
میری حالت پہ مجھ سے بڑھ کے کوئی رویا تک نہیں تھا

بہت چہرے تھے میرے گرد، پھر بھی دل اکیلا تھا
ہجومِ شہر میں اپنا کوئی چہرہ تک نہیں تھا

سلمانؔ اپنے ہی سینے سے لپٹ کر رات بھر رویا
میری حالت میرے سوا کوئی سمجھنے والا تک نہیں تھا

Rate it:
Views: 0
25 Sep, 2026
More Sad Poetry