کرتے ہیں محبت ہم تمہیں سے
Poet: assadullah By: Asadullah abbasi, ISlamabadکرتے ہیں محبت ہم تمہیں سے
تو پھر کسی اور سے دل لگانا کیا
چاہا تھا صرف تمہیں
تو پھر کسی اور کو منہ لگانا کیا
جب تم ہی ہمیں بھول گۓ ہو
تو پھر تیری یادوں کو دل سے لگانا کیا
جب تم ہی نے بیوافاۓ کی ہم سے
تو پھر وفا کا عہد نبھانا کیا
دیکھے تھے ہم نے تیرے خواب ہر پل
اب ان کی تعبیر کو جیتانا کیا
جب تم ہی ہمیں چھوڑ گۓ ہو
تو پھر کسی اور کو گلے لگانا کیا
جب تم ہی ہم سے روٹھ گۓ
تو پھر کسی اور کو منانا کیا
بہت دور نکل گۓ ہم محبت کی راہوں میں
اب وہاں سے واپس آنا ہی کیا
کتنے ہی دن یوں ہی گزریں گۓ تیرے انتظار میں
تو پھر اس دن رات کو گنانا کیا
جب میری خاموش محبت بھی تمہیں قائل نہ کرسکی
تو پھر لفظوں کے ذخیرے کو لٹانا کیا
جب تمہیں ہی ہم سے الفت نہی رہی
پھر تم سے ملنے کے بہانے بنانا کیا
ہو جائے علم تمہیں ہماری چاہت کا
تو پھر لفظوں کا خالی مہفوں کو پلٹانا کیا
تمہیں ہر حال میں لوٹنا ہو گا اسد
تو پھر اتنا انتظار کرانا کیا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






