کراچی

Poet: azharm By: Azhar, Doha

کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی
سُنتے ہیں کہ نفرت سے بنا زہر کراچی

سنتے ہیں کہ لوگوں میں محبت تھی خیالی
سنتے ہیں کہ اس شہر کی تھی ریت نرالی
سُنتے ہیں کہ اس شہر کی رونق تھی مثالی
کہتے ہیں خدا کا ہے بنا قہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی

سُنتے ہیں محبت ہی تھی ظاہر بھی نہاں بھی
سُنتے ہیں کہ سب خوش تھے یہاں بوڑھے جواں بھی
سُنتے ہیں یہی شہر تھا روشن بھی رواں بھی
کہتے ہیں وہی شہر ہے بے مہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی

سنتے ہیں جو آتے تھے، وہ توقیربناتے
سُنتے ہیں کماتے تھے وہ تقدیر بناتے
سُنتے ہیں حسیں شہر کی تصویر بناتے
کہتے ہیں بنی خون کی اب نہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی

سنتے ہیں کہ گلشن میں کھلا ورد کراچی
سُنتے ہیں کہ سانجھا تھا یہاں درد کراچی
سُنتے ہیں محافظ تھا یہاں فرد کراچی
کہتے ہیں تشدد کی ہے اک لہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی

 

Rate it:
Views: 708
05 Jun, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL