کجھ تاں
Poet: صوفی شاعر حضرت غلام حضور شاہ By: maqsood hasni, kasurسن چوہتر چھے جنوری اج اتوار منائیے
دل کر دا شعر بنا کے عید دا گوشت کھائیے
سکی ڈالی پہل نہ لگن لکھ چارہ جے لائییے
ڈگے پہل نہ بوٹے لگن لکھ عقلاں پیے دوزائیے
سکے بوٹے ہرے نئیں ہوندے لکھ جے پانی پائیے
مکی عمر نہ دارو لگن لکھ دوائیاں پیئے کھائیے
موئے نہ کدی زندہ ہوون بھاویں دلیوں حکیم بلائیے
کوہڑے اندر صاف نئیں ہوندے بھاویں روز مکے ٹر جائیے
کالے کدی نئیں گورے ہوندے بھاویں دن سارا پیے نہائیے
دشمن تے اعتبار نہ کرئیے کدی وساہ نہ اس دا کھائیے
دشمن کدی نئیں سجن بن دا لکھ پیار محبتاں پیئے کمائیے
جان دیئیے فر سجناں پچھے پوری پیار پریت نبھائے
سیوا جے کریئے ماں پیو دی رب فضلوں دونا ای پھل پائیے
عمل کریں جے بندیا چنگے دوجہانیں سوہنا رتبہ پائیے
مندے کم نہ کریں بندیا ایتھوں اوتھوں دیاں سزاواں توں بچ جائیے
غلام حضور غریب فقیر نمانے دیاں گلاں اتے کجھ تاں عمل کمائیے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






