کبھی الوداع ناں کہنا
Poet: Iman Hashmi By: Iman Hashmi, KSAکبھی الوداع نہ کہنا
اس وعدے پر کہ ہم پھر ملیں گے
اس خواہش پر کہ دل پھر جڑیں گے
اس حقیقت پر کہ ہم ہمیشہ دوست رہیں گے
اس خوبصورتی پر کہ ہم پیار کریں گے
اس قربانی پر کہ ہم کچھ پل دور رہیں گے
اس احساس پر کہ ہم پھر ہنسیں گے
اس رات پر کہ ہم پھر تاروں تلے بیٹھیں گے
اس روشنی پر کہ ہم ہمیشہ ایسے دمکیں گے
اس ہوا پر کہ ہم یونہی خوش رہیں گے
اس خط کے الفاظ پر کہ ہم ایکدوسرے کے رہیں گے
اس خاموش پلوں کے بول پر کہ ہم ملتے رہیں گے
اس بند مٹھی کے زور پر کہ ہم آپکا ہاتھ تھامے رہیں گے
اس قدموں کی چاپ پر کہ ہم یونہی ساتھ چلتے رہیں گے
بس اے دوست
کبھی الوداع نہ کہنا
اس وعدے پر کہ ہم پھر ملیں گے
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






