کالی کوئل (بچپن کی ایک یاد) نظم
Poet: ندیم مراد By: N A D E E M M U R A D, UMTATA SOUTH AFRICAآنگن میں جامن کا تھا اک پیڑ کہ جب ہم چھوٹے تھے
موسم میں ہم اس کے جامن شوق سے کھایا کرتے تھے
جامن کے اُس پیڑ پہ اک کالی کوئل بھی رہتی تھی
کالے کالے سے جامن مرغوب تھے شائد اس کو بھی
دیکھ کے ہم کو لیکن وہ گھبراتی تھی شرماتی تھی
اس کو دیکھنا چاہو تو وہ پتوں میں چُھپ جاتی تھی
لیکن صبح و شام وہ اپنا نغمہ "کُوک" سناتی تھی
کانوں میں رس گھولتی یہ آواز بہت ہی بھاتی تھی
بادِصبا میں وہ نغموں سے یوں کوملتا بکھراتی
بادِصبا کے خالق کے ہو جیسے گن گاتی جاتی
بادل گھر کر آتے تھے تو پاگل سی ہوجاتی تھی
جوش بھرے میٹھے نغمے سُندر آواز میں گاتی تھی
بارش میں ہم شور مچاتے چیختے اور چلاتے تھے
اور کیچڑ میں لت پت ہوجاتے تو ما ر بھی کھاتے تھے
لیکن اس ہنگام میں بھی وہ کوئل گاتی جاتی تھی
سب سے ڈرنے والی کیسے طاقت ور ہوجاتی تھی
پھر اک دن احساس ہو ا کہ اب گھر چھوٹا پڑتا ہے
کچھ بچوں کو صحن میں اپنا بستر ڈالنا پڑتا ہے
آنگن میں دو کمرے ڈلوانے کو جامن کاٹ دیا
اور اس کالی کوئل کا تو جیسے گلشن کاٹ دیا
اس دن اتنا رونا آیا جیسے اپنے چھوڑ گئے
جیسے اپنے چھوڑ گئے ، نازک سے من کو توڑ گئے
پھر میٹھی آواز بھی سنتا تھا تو کوئل یاد آتی
جامن کا وہ پیڑ بھی یاد آتا جو کوئل یاد آتی
گو کہ ہجر کے کچھ لمحے بھی صدیوں جتنے ہوتے ہیں
ناسمجھی کے دن کیا ماہ و سال بھی لمحے ہوتے ہیں
بیتی ایسے عمر کہ جیسے صحرا میں ساون بیتے
جیسے پو پھٹنے سے دھوپ نکلنے تک شبنم چمکے
لیکن کب سے کالی کوئل کی میں آس میں بیٹھا ہوں
کس کو خبر کہ کب سے اس میٹھی آواز کو ترسا ہوں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






