چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانو
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zhahid Sheikh, Lahore,Pakistanچھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
ایک تاریکی میں بستے رہے انسان کئی
جن کے لٹتے رہے ہر دور میں ارمان کئی
زیست میں جن کے اندھیرے رہے غاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
کچھ بھی حاصل نہ ہوا جنگوں سے اب تک ہم کو
ہم پھیلاتے ہیں ہر اک شخص کی خاطر غم کو
جیتے جی مرتے ہیں سب ظلم کے ماروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
پیار سے بڑھ کے ہمیں کوئی بھی اب کام نہ ہو
سب ترقی ہی کریں کوئی بھی ناکام نہ ہو
ایک دوجے کے لیے چمکیں ستاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں ، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






