چھوڑ کر چلے گئے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanبیچ دوراہے میں لا کر اکیلا چھوڑ کر چلے گئے
وعدے ساتھ رہنے کے کیے اور نبھائے بغیر چلے گئے
تم نے مجھے سمجھا ہی نہیں اس لئیے اچانک
بے وفائی کا داغ لگا کر روتے ہوئے چلے گئے
کتنی مشکلوں سے پایا تھا تمہیں دنیا کی بھیڑ سے
اپنی ہستی کو بھلا بیٹھے تمہیں دل میں بسا بیٹھے
زمانے کے الزام بھی سہے تیرے لئے خندہ پیشانی سے
اتنے کرب اُٹھائے جس کے لئے وہ بھی الزام لگائے چلے گئے
اپنی دلکش کشش سے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اُس نے
کئی بار ہٹایا قدموں کو تیری طرف پھر بھی چل دیے
تیرے ساتھ کی خوشگواری سے کیسا مہک سا جاتا میں
میرے ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ کا رُخ بدل کر چلے گئے
مجھے چاہت کا دھوکا دیا میرے ارمانوں سے کھیلتے رہے
پیار کے سہانے خواب دیے مہتاب کہہ کر پکارتے رہے
میرے شدت محبت پر شک تھا کیوں اتنی دور چلتے رہے
میں کتنا قرار میں تھا مجھے بے چین کر کے چلے گئے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






