پیغام شھید النمر
Poet: میر یاور عباس بالھامی By: Mir Yawar Abbas Balhami, Balhama srinagar , j&kدے رہا ہے درس ہم کو شیخ باقر کا لہو
مت جھکانا سر کو اپنے ظلم کی چوکھٹ پہ تو
اٹھ کھڑا اور پھاڑ دے تو ظلم کے آئین کو
سر کٹا دینا مگر جھکنا نہیں پائین کو
پردہ باطل کو اپنی تیغ سے تو چاک کر
سر زمینِ پاک سے ناپاکیوں کو پاک کر
کر رہے ہیں راج بے دین، دین کے پوشاک میں
بیچتے ہیں دین کو بدلے خس وخاشاک میں
اپنے حق کو مانگنا بھی ، جرم ہوتا ہے شمار
چاہے خود کتنے گناہ ہوں وہ نہیں کرتے شمار
کٹ چکا ہے رشتہ ان کا عالمِ لاھوت سے
اپنی کرسی کی عبادت ، اور مدد طاغوت سے
ڈالروں اور زرپرستوں سے ہی انکو پیار ہے
حق سخنگو، حق پسندوں سے سدا انکار ہے
دے دیا ہے میں نے سر ، گر تجھ کو بھی دینا پڑے
اس مشن کی اک کڑی بن، چاہے کچھ سہنا پڑے
موت سے ڈرنا نہیں، ہے شہد سے شیرین تر
حق کی خاطر جان دے میراث ہے دیرین تر
ہو میسّر میر کو بھی اے خدا مرگِ شھید
بار گاہِ ایزدی میں باسعادت ہے شھید
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






