پیاسی رہی میں، مے کا وہ ساغر نہیں ملا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiدریا گزر گئے ہیں، سمندر نہیں ملا
پیاسی رہی میں، مے کا وہ ساغر نہیں ملا
اُس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں
کتنے حسیں ملے، وہی پیکر نہیں ملا
کچھ تیر میرے سینے میں پیوست ہی رہے
تیروں کے درمیاں میں وہ خنجر نہیں ملا
آنسو بیان کرنے سے قاصر رہے جنہیں
وہ زخم دینے والا ستمگر نہیں ملا
اک چوٹ دل پہ لگتی رہی ہے تمام شب
دل کی زمیں پہ آج وہ دلبر نہیں ملا
وہ ضبط تھا کہ آہ نہ نکلی زبان سے
وہ سامنے تھا، پھر بھی وہ آکر نہیں ملا
وشمہ جی اُس کے پیار میں لذّت عجیب تھی
لیکن اُسی سے میرا مقدّر نہیں ملا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






