پھر آگیا ہوں ، اب نہ روکا تم نے ، تو پھر واپس نہ آ ؤں گا
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreپھر آگیا ہوں ، اب نہ روکا تم نے ، تو پھر واپس نہ آ ؤں گا
اب گیا تو تمہارا شہر نہیں ، یہ ملک ہی چھوڑجاؤں گا
ایک ایک کر کے سب ساتھ چھو ڑ گئے ،تمہا را پیا ر مجھے کہا ں روکے ہوے ہے
اگر تم نے میراساتھ ہے چھوڑ کر جانا،تو پھر یہاں رہ کر میں کیا کروں گا
روک لو مجھے اگر زند گی کا ساتھ چاہیے اور سچا پیار چاہیے
یہ تو منافکوں کی دنیا ہے ،میں تو دل سے ہمیشہ تمیں چا ہوں ٖگا
مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اگر کوئی تمہیں دل سے چاہنے والا نہ ملاتو
دیکھ کر یوں تڑپتا تمیں میں تو ساری عمر روتا ہی رہو ں گا
تمہاری زندگی کا ساتھی ، چھوڑگیا اگر راہ میں تمیں
دل تو ڑا اگر کسی نے تمہارا ،تو میں یہ دیکھ کر برداشت کیسے کروں گا
آج وفا کی کوئی قدرو قیمت ،دو قدم چل کر سا تھ چھو ڑ جاتے ہیں لوگ
تمہیں چھوڑ گیا اگر کوئی تو میں تمہیں تنہا کیسے دیکھ پاؤ ں گا
مجھے بس فکر ہے تمہاری کہ تمہیں کوئی عمر ساتھ نبھانے والا مل جائے
مجھے اپنی فکر تونہیں ،میں تو جس کا بنا ،ساری عمر اسی کا رہو گا
وقت جیسا چلن ہے میرا جانتی ہوکہ وقت جا کر واپس کبھی آتا نہیں
اس آس پر مجھے آج نہ کھونا کہ کل شاید کسی موڑ پر تمہیں مل ہی جاؤں گا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






