پردیس کا عالم
Poet: A F By: A F, SAUDIA ARABIAدیس میں رہنے والوں کسی پردیسی سے پوچھوں
کہ دیس کیا ہوتا ہے
اپنوں سے خفا ہونے والوں کسی پردیسی سے پوچھو
کہ اپنوں کا ساتھ کیسا ہوتا ہے
ہر خوشی ہر غم میں بھی اپنوں سے دور رہنا کیسا ہوتا ہیں
پاس جانا چاہوں بھی تو نہ جا سکوں اس دوری کا احساس تبھی ہوتا ہے
اک پردیسی نے کہا میری ماں ہر پل میرے ساتھ رہتی تھی
کیونکہ مجھے اندھرے میں ڈر لگتا تھا
پر آج یہ کیسا منظر ہے آندھی ہیں طوفان ہیں اندھیرا ہے
اور میں اکیلا ہوں
اچانک سے ماں کا فون آگیا ماں نی پوچھا بیٹا کیسے ہو
میں چپ رہا کچھ نہ کہا
کہا تو بس اتنا کہا کہ ماں میں پردیسی ہوں میں پردیسی ہوں
میں ماں سے کیسے کہتا کہ آج سخت اندھیرا ہے
مجھے تنہائی نے آگھیرا ہے
کوئی نہیں ہے اپنا میرے پاس سوائے ان پلوں کے
جو اپنوں کے ساتھ گزارے ہیں
پردیس کا عالم تو وہی جانے جس نے تنہائی میں
اپنوں کی جدائی میں اپنی زندگی کے کچھ پل گزارے ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







