پرانے دوست کبھی بھلائے نہیں جاتے
Poet: hira By: hira, gojraپرانے دوست کبھی بھلائے نہیں جاتے
نئے رشتے بھی احساس کے بنائے نہیں جاتے
جو ساتھ لےجائیں سبھی خوشیاں سمیٹ کر
ان کے غم بھی دل سے نکالے نہیں جاتے
بدن کو چیر جاتے ہیں یوں پل میں
کانپتے ہاتھوں سے ٹانکے بھی لگائے نہیں جاتے
رتجگوں کا تحفہ دے جاتے ہیں آنکھوں کو
پلکوں پہ خواب پھر سجائے نہیں جاتے
چپ چاپ چلے جاتے ہیں دامن چھوڑ کر
تا عمر دعاؤں سے بھی واپس بلائے نہیں جاتے
اجڑ جائے مکاں جو مکیں کے چھوڑ جانے سے
وہاں آشیاں نئے بنائے نہیں جاتے
اعتبار دل مجروح نہ کر دیں کہیں
نئے بندھن اب ہم سے آزمائے نہیں جاتے
جوانی کی دہلیز پہ پہلا قدم رکھتے ہوئے
ارمان سہانے خاک میں ملائے نہیں جاتے
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL







