پتھر برسانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Jhangپتھر برسانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
مجھے مٹانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
گھائل بدن میں اب بھی میرے لوہو تھوڑا باقی ہے
پوچھ بہانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
سر سے لے کر پاؤں تک درد کا اب احساس نہیں
چوٹ لگانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
مدھم سے کچھ منظر جو آنکھیں اب بھی دیکھتی ہیں
تیر چلانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
گھر کے ایک دریچے کا جلنا کچھ کچھ رہتا ہے
آگ لگانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
دیکھو سالم اب تک ہے کمرے والی اک دیوار
اِسے گرانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
دور کہیں سے ایک صدا اب بھی سنائی دیتی ہے
چھوڑ کے جانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
دیپک برپا ہوا نہیں قہر تمھاری بستی پر
ستم مچانے والا کوئی رہ تو نہیں گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






