وحشت و دھشت
Poet: خود By: سید احسان علی شاہ ہاشمی, کراچیمجھ اس دور کی حالت نہیں دیکھی جاتی
وحشت و جبر و جہالت نہیں دیکھی جاتی
یاں کی بدکاری و ذلّت نہیں دیکھی جاتی
نفرت و تھمت و غیبت نہیں دیکھی جاتی
حسنِ صورت سے ہیں دنیا کی نگاہیں مسحور
زر زمیں دیکھ کے سیرت نہیں دیکھی جاتی
اف یہ بدگوئی و بدخوئی و بدآموزی
شر غضب کینہ کدورت نہیں دیکھی جاتی
خودسری ابتری بے ہودگی و بے خبری
پستیوں کی کوئی صورت نہیں دیکھی جاتی
پست معیار میں انسان کا عالم ہے عجیب
اپنے اسلاف کی چاہت نہیں دیکھی جاتی
اب خوشی اور غمی کا کوئی مفہوم نہیں
انتہا ہے شبِ فرقت نہیں دیکھی جاتی
دل میں تصویرِ بتاں اور جبیں سجدے میں
عبد ہیں روحِ عبادت نہیں دیکھی جاتی
وہ جو منبر پہ بنے بیٹھے ہیں مسجد کا چراغ
میکدہ میں تو یہ حالت نہیں دیکھی جاتی
روزِ محشر سے کہیں بڑھ کے ہے یہ دنیا کا حشر
وہ تو وہ یہ ہی قیامت نہیں دیکھی جاتی
رہزنی فسق و فجور اور حوادث احسان
پھیلتی وحشت و دھشت نہیں دیکھی جاتی
یہ غزل اقراء اکیدمی کراچی کے توسّط سے انکے ایک کتاب بنام “ شھرِ خموشان“
میں بھی آئی یہ کوئی ۱۹۸۶ یا ۱۹۸۷ کا زمانہ تھا جب وحشت و دھشت جنم لے رہی تھی۔
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






