نیلام عام
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryالیکشن کی آمد ہو یا عام زندگی کے معاملات ۔ہم بطور قوم کس منزل کے مسافر بن گئے ہیں؟
اگر کسی کا دل دکھے تو پیشگی معذرت ۔
"نیلام عام"
اک روز میں گزری کوچہ وطن سے
نیلامی لگ رہی تھی کسی کی وہاں۔
میں بھی بصد اشتیاق رک گئی
طلب تھی کہ دیکھوں
کون کون ہے خریدار آج یہاں؟
بک رہی تھی "محبت" بہت سستے میں
اس لئے تو مجمع تھا بے شمار
بولی شروع کی تھی" ایمانداری " سے سب نے
کہتے ہیں لوگ "قیمت" معین ہے ہر شے کی یہاں
لو ہوگئی نیلام" ایمانداری" وہاں
اب گھیر لیا تھا سب نے "خودداری" کو
لو بڑے سستے میں ہوگیا سودا مکمل وہاں
اب کھڑا تھا "ایمان " ڈرا سہما ہوا
لو اس کو تو لوٹ ہی لیا اپنوں نے مفت میں ہی بارہا بار
اب اور کیا لکھوں؟
ایک نظر جو مجمع پر ڈالی
کہ دیکھوں یہ کن کا جم غفیر ہے ؟
نکلے اپنے ہی دونوں
کیا بیوپاری؟
کیا خریدار ؟
پھر روئی مونا زار و زار
لٹی میری" مادر وطن"
میرے اپنے "پیاروں " کے ہاتھ۔
بس پھر قرطاس سیاہ ہوتی گئی
میری آنکھوں سے ساون بھادوں برستی رہی
یوں ہی رات بیتتی گئی
بیتتی گئی
بیتتی گئی
میں یونہی چلتی گئی
چلتی گئی
چلتی گئی
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






