نہیں آتا
Poet: Gulzaib Anjum By: Gulzaib Anjum, Dubaiداغ مفارقت سے سینہ پاش پاش ہے میرا
کرنا پھر بھی مجھے غموں کا اظہار نہیں آتا
مسلماں ہوں عقیدہ کُل نفسً ذائقۃالموت ہے میرا
جانے پھر کیوں تیری موت کا اعتبار نہیں آتا
نوحہ تیرا خوں سے لکھوں یا لکھوں سیائی سے
کسی صورت بھی میرے دل کو قرار نہیں آتا
بہا کر بحر اشک آنکھوں نے کچھ تو تسکین پا لی
کروں کیا دل کا دل کو صبر و قرار نہں آتا
میں تیرا ہر اک انداز چرا بھی لیتا مگر پھر بھی
تجھ سا تو ، مجھے سلیقہ گفتار نہیں آتا
کل کی طرح آج بھی تکتی ہے ماں تیری راہگذر
کہے کسے بسم اللہ کوئی تجھ سا سائیکل سوار نہیں آتا
بات کوئی تجھ میں منفرد تھی نرالی تھی
ورنہ یونہی کسی کو کسی پہ پیار نہیں آتا
پوچھا گیا جب تیرے مکتب کے اک طالب علم سے
کہنے لگا سبھی آتے ہیں مگر ڈھیری کا شہسوار نہیں آتا
منعقد آج بھی ہو رہی ہیں ہر سو محفلیں بہت
مگر ان میں کوئی تجھ سا پروفیسر انوار نہیں آتا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






