نہ آئیں گے کبھی بھی لوٹ کر اب ڈاکٹر زاہد

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

بیادِ ڈاکٹر زاہد شیخ نذرانہَ تعزیت

نہ آئیں گے کبھی بھی لوٹ کر اب ڈاکٹر زاہد
بسا بیٹھے نیا کوئی نگر اب ڈاکٹر زاہد

دیا کرتے تھے جیسی داد کھل کر ہر لکھاری کو
نہ یوں دے پائے گا کوئی بشر اب ڈاکٹر زاہد

حقیقت تو یہی ہے آپ ویب کی شان تھے گویا
کریں تسلیم یہ شمس و قمر اب ڈاکٹر زاہد

نہ صرف اچھے وہ شاعر تھے،مگر انساں بھی اعلی تھے
ہے ہر اِک شخص کو اس کی خبر اب ڈاکٹر زاہد

ہمیں دکھ ہے تو بس اتنا کہ کیسے موڑ پر آ کر
ملا ہے آپ کو اذنِ سفر اب ڈاکٹر زاہد

خدا سے بس ہماری تو دعا ہے آپ کی خاطر
ملے جنت میں اِک اچھا سا گھر اب ڈاکٹر زاہد

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے اہلِ خانہ کو
خدا ہی دے گا ان کو بھی صبر اب ڈاکٹر زاہد

Rate it:
Views: 3680
02 May, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL