نبیؐ قرآن پڑھتے ہیں
Poet: Prof Niamat Ali Murtazai By: Prof Niamat Ali Murtazai,نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، ستارے آ کے سنتے ہیں
یہاں قسمت سنورتی ہے، ذرے بھی چاند بنتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، ہوائیں آ کے سنتی ہیں
یہاں خوشبو بکھرتی ہے، گلوں میں خار ڈھلتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، پرندے آ کے سنتے ہیں
یہاں ملتی اماں بھی ہے ، قفس سے پر نکلتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، ملائک آ کے سنتے ہیں
انہیں ملتی حلاوت ہے، مدارج ان کے بڑھتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، خلائق آ کے سنتے ہیں
انہیں اکسیر ملتی ہے، پرانے زخم بھرتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، چمن بھی آ کے سنتے ہیں
انہیں ملتی ہے رنگینی ، خزاں کے سائے ڈھلتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، بتوں میں جان پڑتی ہے
ہوئے کنکر بھی گویا ہیں، شجر بھی راہ چلتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، تو جبرائیل سنتے ہیں
ہوئی دنیا آسودہ ہے،فلک بھی جھوم جاتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، تو بیت اﷲ بھی سنتا ہے
سنے زم زم بھی رک رک کر صفا مروہ بھی گاتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، بہاریں جھوم جاتی ہیں
ہوئے موسم سہانے ہیں، اندھیرے بھاگ جاتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، گھٹائیں برس جاتی ہیں
بریں جنت زمیں اترے، نظارے دل لبھاتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، بھریں لفظوں کے پیمانے
بھرے مستی حروفوں میں مصوتے دل جلاتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، ملے روحوں کو انگڑائی
دلِ مردہ بھی زندہ ہوں زمانے رک سے جاتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، خدا خود آ کے سنتا ہے
حروفِ جو مقطع کا خودی مطلب بتاتے ہیں
نبی ؐ قرآن پڑھتے ہیں، سنو تم مرتضائیؔ بھی
وہاں جا کر سنبھلتے ہیں یہاں جو گرتے جاتے ہیں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






