میں چڑیا تیرے آشیانے کی اڑنے والی ہوں
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadمیں چڑیا تیرے آشیانے کی اڑرنے والی ہوں
کسی اور دیس جابسنے والی ہوں
مجھے تیرا پیار یاد آتا ہے
میری نظروں کو تیرا انتظار لبھاتا ہے
میری تمنا تھی مجھے اپنے ہاتھوں سے رخصت کرتے
میرے سر پر دعاؤں والا ہاتھ رکھتے
میری تمنا ، تمنا رہے گی
آنسوؤں کا سہارا لے کر بہیے گی
اک یہی تمنا سدا رہے گی
میں اپنے سفر پر خود چلنے والی ہوں
میں چڑیا تیرے آشیانے کی اڑرنے والی ہوں
میری بے بسی دیکھو تمہیں پکار رہی ہوں
مہندی کی خوشبو سے رچے ہاتھ دیکھ کر
میرے ابو تیری یادیں سلگا رہی ہوں
تیری مغفرت کی دعاؤں میں بسے ہاتھ دیکھ کر
میں اب کسی اور کے ساتھ رہنے والی ہوں
میں چڑیا تیرے آشیانے کی اڑرنے والی ہوں
میں تیرے بنا نئے سفر پر جارہی ہوں
تیرے بنا اب چلنا سیکھ کر
تیری یادوں کو اپنے ساتھ سجا کر
تیرے بنا اڑرنا سیکھ کر
میں کسی اور کے ساتھ اڑنے والی ہوں
کسی اور دیس بسنے والی ہوں
وہ مجھے بے حد پیار کرتا ہے
اس کے پیار میں تیرا پیار دکھتا ہے
میں دل ہارنے والی ہوں
میں چڑیا تیرے آشیانے کی اڑرنے والی ہوں
میری ڈولی بھی سج گئی ہے
سات سروں کی سرنگم بنی ہے
مجھے اک دفعہ رخصت کر جاؤں
خواب میں یہ امید بھرجاؤں
مجھے اپنے نام کے ساتھ تیرا نام بےحد پیارا لگتا ہے
بس اسی اک عبارت پر جیون سارا لگتا ہے
میں اب کسی اور کا نام لگانے والی ہوں
میں چڑیا تیرے آشیانے کی اڑنے والی ھوں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






