میں ُاس کے جیسی ہوں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaوہ کہتا ہے
میں ُاس کے جیسی ہوں
میں ضدی ہوں
میں چنچل ہوں
میں شوخی کا اک بنڈل ہوں
میں ہستی ہوں تو
فصائیں گونج ُاٹھتی ہیں
میں روتی ہوں
تو گہرا سمندر ہوں
میں سچی ہوں
میں سادہ ہوں
میں خود سے آمادہ ہوں
میں سب میں مکمل لیکن
اک شخص کہ بناء ادھوری ہوں
آج ُاسے زمانے سے ڈرتا دیکھ کر
میں نے بھی کہہ دیا لکی
میں چھوڑ کر تم کو جا رہی ہوں
سن لو ! اگر تم نا آئے تو
میں نیاء گھر بساؤں گئی
میں زندگی سے نبھاؤں گئی
میں پھر کبھی نا لوٹ کر آؤ گئی
میں تمہیں بھول جاؤں گئی
اور دیکھوں تم نے بھی مجھے روکا نہیں
لیکن تم بھول گئے کیا
کہ میں بھی تم جیسی ہوں
میں تمہیں جیتنا چاہیتی ہوں
میں اس زمانے میں
تمہارا سر ُاٹھانا چاہیتی ہوں
میں اک مذہبی لّڑکی ہوں
اور اپنے خاوند کے لیے ّانا رکھتی ہوں
میں تمہیں عزت سے اپنانا چاہیتی ہوں
میں تمہاری سچی محبت کو
زمانے کو دیکھنا چاہیتی ہوں
تو تم بھول گئے کیا
کہ میں بھی تم جیسی ہوں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






