میں اپنے آپ میں نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں اپنے آپ میں رہ کر بھی اپنے آپ میں نہیں
مگر یہ بھی نہیں کہ بالکل ہی اپنے آپ میں نہیں
اچانک شام کے سائے کبھی دن کے کسی پہر
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
شب کے اندھیروں میں کبھی دن کے اجالوں میں
یہی محسوس ہوتا ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میری تنہائی میں اکثر ہیولہ سا ابھرتا ہے
جو میرے روبرو رہتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے میرا وجود میرا ہے
مگر اس میں بھٹکتی روح اپنے آپ میں نہیں
خدا جانے یہ کیا احساس ہے کیسا تخیل ہے
کہ مجھ میں اور کوئی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
میرے اور اس کے درمیاں کوئی دیوار حائل ہے
میں یہاں ہوں میرا سایہ ہی اپنے آپ میں نہیں
مجھے اکثر یہ لگتا ہے میرا کلبوت خالی ہے
میرا وجود خالی ہے میں اپنے آپ میں نہیں
کہیں پر بھی چلے جائیں لوٹ کے گھر کو آنا ہے
کہاں تک کوئی رہ سکتا ہے اپنے آپ میں نہیں
مجھے عظمٰی اچھوتی سی کہانی وہ سناتا ہے
کوئی اس وقت آ کر جب میں اپنے آپ میں نہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






