میں اور میری تنہائی
Poet: Farkhanda Rizwi By: Shazia Hafeez, Attockرات کا اک پل مجھے کہیں دور
بہت دور لے گیا
آنکھوں میں نیند نہ پھر بھی
کھلی آنکھوں میں خواب سجائے میں نے
ایک پھول کھلا تھا کہیں
شاخ پر لگا جیسے بوجھ دہراہے کوئی
وہ شاخ جھکی تو جھکتی ہی گئی
نا جانے محبت کا نشہ تھا یا مجبوری اس کی
پاس ہی بھنورا کہیں سے اک چلا آیا
پل کے لئے ٹھہرا پھول سے آنھ ملائی
چل دیا اک طرف
ایسے میں رات کا پہر بڑھنے لگا
کہیں سے ایک جگنو آ بیھٹا ہمدرد بن کر
پھول پر پڑے تھے، شبنم کے چند قطرے
آنسو سمجھ کر چن لئے اس نے
پھر سنبھلنے کی دعا دی اس کو
یہ بھی ایک انداز تھا محبت
پھر رات کا پہر بھی دھیرے دھیرے بڑھتا گیا
صبح کی ہوا ساتھ ہی روشنی کی کرن لائی
پھول کا کیا ہوا
شبنم ہوئی رخصت سورج کی کرن کے ساتھ
پھول نہ بے وفائی سہہ پایا ان رشتوں کی
پھر بکھر گیا اس ہوا کے سنگ سنگ
میں نا دیکھ پائی تماشہ اس جدائی کا
پلٹی جو میں تو میرے سنگ بھی کوئی نہ تھا
نہ نیند میری نہ خواب میرا
بس میں اور وہی میری تنہائی تھی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






