میرا کوئی ہوتا تو.......!!
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: AF(Lucky), saudi Arabiaمیرا کوئی ہوتا تو
بتاتا تمہیں سمجههاتا تمہیں
کچهه تمہاری غلطی کا
کچهه میری نادانی کا بتاتا تمہیں
کس طرح سے مجهے توڑا ہے
میری بکههری ذات دیکههاتا تمہیں
میری آنکھوں میں اب
خواب جلتے ہیں
میری آنکھوں کی لالی کا
قصہ سناتا تمہیں
تمہارے وعدوں کے سارے الفاظ
دہرا کے بتاتا تمہیں
تمہارے تیروں جیسے لفظ
تم پر چلا کر دیکههاتا تمہیں
تم نے کیا کیا کیے ظلم مجهه پر
میری آنسوؤں کی داستان سناتا تمہیں
میری امیدوں کے بجتے چراغ
بلا کر دیکهتاتا تمہیں
کیا یوں ہی چههوڑ دیتے ہیں
اپنا بنا کر ؟
یہ سوال کوئی پوچههتا تمہیں
میرا کوئی ہوتا تو
مجهه سے ملاتا تمہیں
جھگڑوں کو ختم کر کے
دوستی کا سبق پڑههتا تمہیں
میں کس طرح کرتی ہو
شام و سحر تمارا انتظار
مجھے لے کر جانے کا کہتا تمہیں
زندگی یوں ہی برباد نہیں کرتے
خوشیوں کا راز بتاتا تمہیں
میرا کوئی ہوتا تو
بتاتا تمہیں سمجههاتا تمہی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






