میرا رب
Poet: عرشیہ ہاشمی By: arshiya hashmi, islam abadھاں وہ میرا رب ہے
جیس سے میری نسبت ہے
ھر آن جس کی نگاہ ہے مجھ پر
ھر گھڑی کی سانس عنایت ھے مجھ پر
وہ ہی تو ھے جس نے مجھے دیا ھے
عدم سے وجود،شعور،قسمت
میرے خدا نے حیات د ھے
زرے سے پہنچایا کمال تک
انگلی پکڑ کہ مشکل ڈگر پہ،
ساتھ دیا،ہمت سے چلایا مجھ کو
کہاں سے لکھوں اور کہاں تک ؟
وہ تو شامل ہے روز و شب میں
میں طفل تھی، جب شعور نہ تھا
نہیں وہ اس سے پہلے بھی ساتھ ہی تھا
کہ جب نہ تھی میں تو اس نے مجھ پر کرم کیا تھا
کہ اس نے تقدیر کو اپنی مرضی سے لکھ دیا تھا
وجود دینے کے بعد اس نے دئیے تھے رشتے
اذان، سے زندگی سجائی
بڑی محبت ہے اس کو مجھ سے
کہا اسی نے
کہ اس نے مجھے مسلماں بنایا
ماں کی ممتا کا، باپ کی شفقت کا،
میرے سر پہ آسماں بنایا
پھر اس طرح زندگی چلی تھی
میں اس کے احسانوں پہ جھک گئی تھی
صحیح سلامت دل و نگاہ ہے
وجود کامل ہے جسم و جاں ہے
علم ہنر میں کمال ہے تو میرا نہیان ہے
محبتیں لازوال مجھ پر ھیں تو یہ اس کی عنایتیں ھیں
یہ رب کی مجھ سے محبتین ھین
محبتیں ھیں
وہ میرا رب ہے رگوں میں بہتے لہو کی مانند
اسی کی ھیں رحمتین کہ جن پر گزر میرا ہے ' '
میں رحمتوں کی، محبتوں کی قدر کروں گی
مگر بدلہ نا اک زرہ بھی دے سکوں گی
وہ حکم دیتا ہے "فاشکرو للہ"
کہان تلک شکر کر سکوں گی
کہ ذرہ میں ہوں،،،،، کمال ہے وہ
کہ میں ہوں فانی،،، لازوال ہے وہ
بے مثال ہے وہ
جو میرا رب ہے
اس سے میری نسبت ہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






