میرا بچپن
Poet: اسد حیات سپرأ By: Asad Sipra, Chiniotاے بچپن تجھے یا د ہے
تیرا وہ یوں روتے روتے مسکرا دینا تجھے یاد ہے
کیسے کروں میں بیاں تجھ کو
تو اک حسین پل کیسے معمور ہوا تجھے یاد ہے
ہوتی اگر خواہش تو پا لینے کا جزبہ
پھر وہ خوشی سے میسر یا ضد تجھے یاد ہے
تو اتنا حسیں ! سر سے قدم تلک جھلک میں
تو اتنا خاموش جسے اندیشہ زوال نہ تھا تجھے یاد ہے
اشک !اشک آنکھوں میں کب آئیں کوئ خبر نہیں
دل سے کب رخصت ہوئ کوئ خوائش تجھے یاد ہے
ایس چہرہ پر نور تھا گویا شمع تھی روشن
رتبہ حسن میں شمس و قمر سے بالا تر تجھے یاد ہے
غم کی کوئ زبان نہ تھی
جیسےزخموں کا کوئ پیمانہ نہ تھا تجھے یاد ہے
وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنا نا، ڈبونا
تمہاری خوشی پھولے نہ سماتی تجھے یاد ہے
کتنا نادان و معصوم تھا تو
کیسے گل سے خار ہوا تجھے یاد ہے
تھا اپنا ہوا پرایا دیکھ اے بچپن
کیسے چھینا تجھ سے تیرا بچپن تجھے یاد ہے
خواب تھا یا خیال تھا
کیسےآنکھوں سے اوجھل ہوا تجھے یاد ہے
مدت ہوئ بچپن کو الوداع کیئے
کیسے جوان ہوے! کیسے مصیبتوں نے گھیرا تجھے یاد ہے
جب سےپڑئ زمہ داری تجھ پہ
ہر راہ نئ منزل ! کٹھن سفر تھا تجھے یاد ہے
خبر نہیں سفر خاک میں کہاں کہاں ہوں میں
کہیں اندھیرے تو کہیں اجالے تجھے یاد ہے
شہر سارا سو رھا ہے مگر کسی کو احساس تک نہیں
کوئ لپٹا ہے درد میں تو کوئ پر سکون !تجھے یاد ہے
کوئ آتا ہے ! کوئ چلا جاتا ہے ! ہے سفر رواں دواں
کوئ میزباں ہے! تو کوئ مہماں تجھے یاد ہے
ہیں رشتے سبھی مفاد کے جیسے ازل سے چلا آ رہا ہے
پھر وہ یوسف کے بھائ ہوں! یا اب کا بنی نوع انسان تجھے یاد ہے
ہیں ادب کے تقاضے یہی
کہ بنت حوا کی کوئ قدر نہیں تجھے یاد ہے
نکلے تھے باہر چلنے کو شانہ بشانہ
تو اچھالی گئ عزت! جیسے کوئ عزت اپنی اپنی نہ تھی تجھے یاد ہے
مر گیا ضمیر یا ڈر نہ تھا خدا کا
پیشہ ور تھے ہم! یا علم ادب کے فقت تاجر تجھے یاد ہے
چلتے چلتے گزار دی یوں زندگی اپنی
کہیں خیال تک نہ آیا کہ جھانک لے گریباں اپنا تجھے یاد ہے
تھک ہار کر سلوٹیں ڈل گئ چہروں پر
کیسے زندگی نے اک اور چراغ گل کیا تجھے یاد ہے
پلک جھپکتے اجاڑ دی اپنی دنیا
اسد
وہ بستیاں جنہیں بسانے میں کئ زمانے لگے تجھے یاد ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






