مٹی
Poet: Fatima Ibraheem By: Fatima Ibraheem, Lahoreمیں مٹی ہوں
مجھے مٹی میں رہنے دو
میرے اندر بہت سی زندہ جانیں بلبلاتی ہیں
یونہی تو کڑوے پانی کی یہ سب ندیاں نہیں بہتیں
مجھے شاداب ہونے دو
وفا کی کھاد ڈالو
محبت کا پانی بھی دو
کبھی کبھی مجھ پر چاہت کی بارش بھی ہو
مجھے آزاد رہنے دو
نکلتی اور بڑھتی ننھی منھی کونپلوں کو یوں نہ نوچو
میں جو کچھ بھی اگاتی ہوں
اندھیروں سے اگاتی ہوں
اندھیروں سے یہ سارے رنگ خوشبو اور شادابی
یونہی نہیں بنتی
حقیقت وہ جو مجھ میں ہے
تمہاری سوچ میں کب ہے
میں مٹی ہوں
میں مٹی ہوں
میں خوشبو ہوں
میں رنگوں سے بھری دنیا
میں شادابی
کڑی دھوپیں جب آگ بن جائیں
تو ٹھنڈا ٹھنڈا سایہ ہوں
تھکی بیزار سب جانیں
مجھ ہی پہ آرام کرتی ہیں
زمانے بھر کی سب زربیں جب مجھ پہ پڑتی ہیں
میں دبتی ہوں
میرے اندر بہت سی زندہ جانیں بلبلاتی ہیں
میری زرخیزیوں کو یوں نہ بیچو
مجھے وحشت نہ بننے دو
مجھے یوں آزماؤ نہ
میں مٹی ہوں
مجھے مٹی میں رہنے دو
مجھے مٹی ہی رہنے دو
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







