ميرے شہر كے ہر شخص نے پتھر مجھ پر اٹھايا ہے..
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreبرسوں بعد وہ ميرے شہر ميں آيا ہے
آنكھوں كو اس كی ياد نے بہت رلايا ہے
پوچھتا پھرتا ہے ہر كسی سے پتہ مير
ميرے گھر كا راستہ اس نے خود بھلايا ہے
مانتا ہے كہ اسے مجھ سے محبت ہے آج بھی
سر پر سہرا كسی اور كے نام كا سجايا ہے
بيٹھی رہی مہندی ہاتھوں ميں رچائے اس كے نام كی
بنا كر كسی اور كو دلہن پہلو ميں بيٹھايا ہے
سينے پر زخم ہزاروں كھائے بيٹھے ہيں
چہرے پر مسكراہٹ لئے درد كو چھپايا ہے
ہونٹوں ميں سسكتی آہيں دبا ركھی تھيں كب سے
دل نے آج انھيں كيسے ادھيڑ كر سجايا ہے
رسوائيوں كے ڈر سے اس كی گليوں كو چھوڑا ہم نے
ميرے شہر كے ہر شخص نے پتھر مجھ پر اٹھايا ہے
ہم نے تو صدا اسے اپنی پلكوں پر بٹھايا ہے
وہ اور ہوں گے جنھوں نے اسے نظروں سے گرايا ہے
لاكھ طوفاں تھے نفرتوں كے زندگی ميں آئے
پھر بھی ہنس كر بے رخيوں كو اپنايا ہے
چاہتا تھا بےوفا ہو كر بھی وفا اس كے نام رہے
خود كو ہار كر بھی ہم نے اس كو جتايا ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






