ملے بہت پر تجھ سا دوبارا کوئی نہ پیارا ملا
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaملے بہت پر تجھ سا دوبارا کوئی نہ پیارا ملا
پھنسے منجدھار میں اسے کبھی دوبارا کوئی نہ کنارا ملا
آزادی قفس سے جو اڑا سمجھا آزاد ہوا ہوں میں
تھی تلاش بہت مجھے پر مجھ سا اکیلا کوئی نہ بچارا ملا
آواز تو میں دیتا رہا پر خود لوٹ کے آنے کی
ویرانیاں تھی دور دور شناسا کوئی نہ ہمارا ملا
پیروں کا دیکھے یہ شوق چھاؤں بغیر رہتے نہیں
اداسی حد سے گزر گئی تھی جب صحرا کوئی نہ یارا ملا
اب تو چلو کچھ میاں بات مان گے ہو تم
کچے کھڑے کی جیت ہوئی جب کشتی کو کنارا کوئی نہ سہارا ملا
حد سے گزر گیا تھا قلزم جوش جنوں کی تھی تپش
ایسا ملا خدا مجھے پھر خدا کوئی نہ دوبارا ملا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL







