محبت کی زباں ، میری زباں
Poet: Naghma Habib By: Naghma Habib, Peshawarصدائے طیور اور نہ جھرنوں کا شور
کچھ بھی میں سن نہیں سکتا
نہ شامل میں بلبل کے گیتوں میں ہوں
نہ کوک کوئل کی میرا مقدر بنی
نہ لفظ زندہ ہیں
نہ سماعتیں ہیں حیات
میں سمجھتا نہیں زندگی کے بکھیڑے
لطف اس کے سمجھ سے میری بالاتر ہیں
میں چاہوں جو اس سے نبٹنا تو مشکل
قدم میرے مخدوش اور زندگی تیز تر ہے
تتلی پکڑنے کی خواہش لیے
زندگی کا ہر اک دن گزرتا رہا
روشنی جگنوئوں سے بھی مانگی بہت
خالی کشکول لے کر پلٹتا رہا
میرے واسطے
وقت نوحہ بھی ہے وقت گریہ بھی ہے
ہاں! اک ادائے محبت سمجھتا ہوں میں
ایک زباں بول سکتا ہوں میں
وہ ز باں جو
محبت کی ہے
مسکراہٹ کی ہے
دل کی میری کلی اس سے کھل کھل اٹھے
میری سماعت کو محسوس اس کی صدا
اس کے نور سے
دل کی آنکھوں کے جگنو منور رہیں
تتلیاں رقص قد موں میں میرے کریں
پھر وقت قوت بھی ہے وقت ہمت بھی ہے
وقت جیتا بھی وقت چلتا بھی ہے
تیرے ہونٹوں کا ہلکا تبسم
میری محرومیوں کا مداوا بھی ہے
تیری محبت کے چند ایک بول
تیرے ہاتھوں کا ہلکا سا آسرا
زندہ رہنے کا ایک حوصلہ
زندگی کا سہارا بھی ہے
ایک با ہمت لڑکی لوزینہ شعیب کے نام
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






