مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

Poet: Kaif Ahamad Siddiqui By: Siddiqui, Sanghar

مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

اور کھیلوں سے محبت ہی سہی

میں نے اس سے تو بڑے کام لیے

آپ کو کھیل سے وحشت ہی سہی

امتحاں سے میں نہیں گھبراتا

فیل ہونا مری قسمت ہی سہی

پڑھنے والوں نے بھی کیا کچھ نہ کیا

نقل کرنا مری عادت ہی سہی

میں نے تو صرف گزارش کی تھی

سب کی نظروں میں شکایت ہی سہی

میں کسی سے نہ لڑوں گا ہرگز

دب کے رہنا مری فطرت ہی سہی

میں نہ چھوڑوں گا شرافت کا چلن

یہ شرافت مری ذلت ہی سہی

کبھی چومے گی قدم خود منزل

آج ہر گام پہ دقت ہی سہی

یہ مصیبت بھی بڑی دل کش ہے

زندگی ایک مصیبت ہی سہی

کیفؔ اک دن یہ بنا دے گی تجھے

شعر گوئی تری عادت ہی سہی

Rate it:
Views: 3129
14 Jan, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL