ماں باپ
Poet: صبا غزالی By: صبا غزالی, Karachiجو آنکھ کھولی میں نے تو ہو رہی تھی رات
نہ کچھ کرنے کی سکت نہ کر سکتی تھی بات
نہ چلا سکتی تھی پائوں اور نہ اپنے ہاتھ
اس وقت دیا جنھوں نے میرا ساتھ
ڈالی اللہ نے ان میں میری محبت
اور بنایا انھیں اسنے میرے ماں باپ
پھر جب میں تھوڑا اٹھنے لگی
چلنے کی کوشش میں گرنے لگی
گرتے گرتے میں سنبھلنے لگی
انگلی جو ان کی پکڑنے لگی
ہمکتی جو سنتی ان کے قدموں کی چاپ
اللہ نے دیے یہ پیارے ماں باپ
جو آگے بڑھے سب بدلنے لگا
کل کا بچہ اب باہر نکلنے لگا
مسکرا کر جو انھوں نے بھیجا مکتب
وہاں جا کر یہ بچہ بگڑنے لگا
نت نئے نخرے یہ کرنے لگا
روز اپنے رنگ یہ بدلنے لگا
پھر پیار سے سمجھائی جنھوں نے اچھی بات
اللہ نے بنائے وہ پیارے ماں باپ
بچپن گزرا تو آئی جوانی
یہاں شروع ہوئی اک نئی کہانی
جو بات تھی پتے کی لگ نے لگی پرانی
اور پھر سر سے گزرنے لگا پانی
نہ اپنا ہوش نہ ماں باپ کا خیال
بننے لگی پھر بس میں اپنے خواب
پریشان ہونے لگے پھر پیارے ماں باپ
اس وقت مجھے کچھ نہ آتا سمجھ
اچھا برا ہو گیا کچھ کا کچھ
جو تھا سلجھا ہوا گیا وہ الجھ
جو ٹھوکر لگی تو کچھ آیا سمجھ
پھر جب میں پلٹی تو پایا انھیں ساتھ
اللہ نے دیے کتنے پیارے ماں باپ
بتایا مجھے ہم ہیں پتلے خطا کے
وہ معاف کرے گا کہ ہیں بندے خدا کے
تو کر لو توبہ تم بھی خدا سے
جانوں خوش نصیبی کہ جسے توفیق خدا دے
مشکل وقت میں بھی ہمت سے دیا ساتھ
بنائے اللہ نے کتنے پیارے ماں باپ
یہ روشنی ہیں اور ہیںمیری جنت
جو ان کو دیکھ لوں تو آ جاتی ہے ہمت
بس اللہ سے ہے مجھے یہی چاہت
دے سلامتی انھیں ہمت، طاقت، صحت
دے ان کو وہ ایمان کی دولت
دنیا و آخرت کی ہر ہر عافیت
سلامت رہے تا دم ان کی عزت
سر پہ رہے میرے سایہ ان کا
نہ ان کے بغیر گزاروں کبھی وقت
شکریہ! اللہ کی نعمت ہیں آپ
نایاب بنائے اللہ نے کتنے پیارے ماں باپ
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






