مئے تُمہاری دی ہُوئی، مئے کش تُمہارا، جام بھی
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaمئے تُمہاری دی ہُوئی، مئے کش تُمہارا، جام بھی
میں تُمہیں بُھولُوں گا مت رکھنا خیالِ خام بھی
شاعری سے پیٹ پُوجا ہو کبھی دیکھا نہِیں
شعر کہنا ٹِھیک ہے لیکِن کرو کُچھ کام بھی
بُھول بیٹھا ہوں تُمہیں پر بر سبیلِ تذکرہ
نام ہونٹوں پر مچلتا تھا ابھی کل شام بھی
اپنے بچّوں کے لیئے آرام کی تھی کھوج یُوں
کھو دیا سُکھ چین اپنا، کھو دیا آرام بھی
عبد عبادت کرتے ہیں، ہندو پرستِش، پُوجا پاٹ
ایک ہی اللہ ہے، بھگوان بھی اور رام بھی
میں نے اِس جانِب اُترتے ہی جلا دیں کشتِیاں
لاش لوٹے گی مِری گر ہو گیا ناکام بھی
مُہر ہونٹوں پر رہی، جُنبِش کبھی دی ہی نہِیں
ہر گلی کُوچے ہُؤا ہُوں گرچہ میں بدنام بھی
میں بڑا ہی پوچ گو ہُوں دوستو، سو میری بات
بے حقِیقت ہے مُجھے ہوتا رہے اِلہام بھی
شعر کہنے کا سلِیقہ ہی نہِیں تُجھ کو رشِیدؔ
سخت مُشکل ہے سُخن کی راہ میں دو گام بھی۔
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






