لکھاری
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, dearborn, mi USAکچھ لکھنے بیٹھی تھی
شائد افسانہ کوئی
پر لکھتے لکھتے قلم رکنے لگا
اک درد سا دل میں ہونے لگا
بے خیالی میں
آڑی ترچھی لکیریں پڑھنے لگیں
سوچ الٹ پلٹ ہونے لگی
صفحے کالی سیاہی سے
رنگین ہونے لگے
چر مرے الفاظ اپنا جادو کھونے لگے
یقین کی وادیوں میں جیسے
طلاطم سا ہوے لگے
بے ہنگم سا شور دل میں اٹھنے لگے
گھبرا کے قلم روک دیا وہیں
جہاں چیخ اٹھے تھے الفاظ سبھی
نظر ڈالی تو صفحے کورے تھے سبھی
شائد بہتی آنکھوں نے مٹادی ہے
یہ ادھوری کہانی بھی میری
شائد اب نہ لکھ پائوں
کوئی افسانہ کبھی
برداشت کی قوت بھی ختم ہونے لگی
سہل نہیں کٹھن ہے سفر قلم میرا
درد سے رشتہ ہے کوئی یہ پرانا میرا
چیخ اٹھیں ساری کہانیاں میری
بلبلا اٹھے الفاظ سبھی
دم توڑ گئی شاعری بھی میرے اندر کہیں
ٹوٹ کر بکھرنے لگے دیکھو
یہ رشتے سبھی
قلم رک گیا جہاں تھا وہیں
تسلسل نہ برت پاؤں گی میں اب کبھی
دل بھی بے اختیار رونے لگا
فن چپ چاپ میرے اندر کہیں مرنے لگا
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






