لا دواء پایا

Poet: Hafeez ur rehman By: hafeez ur rehman, Peshawar

 زخم رستا ہوا پایا دکھوں کو لا دوا پایا
جو تم نے غم ہمیں بخشے مداوا اُن کا نہ پایا

لگاتے ہو نیا چرکا ہمیشہ جب بلاتے ہو
عجب غمخوار ہو تم سا کوئی غمخوار نہ پایا

جو دیتے ہو ہمیں ہر بار غم پھر بھول جاتے ہو
نہیں لیتے کبھی پھر نام بہت خُدار ہے پایا

غموں کی بھول بھلیوں میں کیا ہے گم مجھے ایسا
بہت ڈھونڈا نہیں ملتا سُراغ اپنا نہیں پایا

بنا کے دُھول گلیوں کی ہمیں تو رکھ دیا تم نے
کہ اُڑتا خاک کو ہم نے ہے اپنی جا بجا پایا

بہت ہوتے ہیں جب وہ مہرباں مجھ کو رُلاتے ہیں
کہ بہتے آنسووں میں ڈوبتا اپنے کو ہے پایا

رہی حسرت کہ میرے درد کو محسوس وہ کرتے
وہ کرتے بھی تو کیونکر بے حسوں سا دل ہے جو پایا

تھی بے بسی کی انتہا تھے سب تماشا دیکھتے
اُس بے بسی میں اپنے کو مرتے ہئے پایا

Rate it:
Views: 483
30 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL