قوت ِ عشق پہ اپنی اعتماد کر
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAقوت عشق پہ اپنی اعتماد کر کعبہء دل دیارِ جاں کو آباد کر
مسلک بےوفائی سے الحاد کر جفا پرستوں کے خلاف جہاد کر
گر کوئی کسی کا سودائی ہو گلی گلی اس کی رُسوائی ہو
پر معشوق جب ہرجائی ہو تو دلِ ناداں خود کو نہ یوں برباد کر
صدیوں کی انمول چاہتیں ہماری روحوں کی ہیں امانتیں
مرے حال پہ وہ عنائتیں میں یاد کروں کبھی تو بھی یاد کر
مرحلہ بھلانے کا ہے صبر آزما لاکھ کرتا رہے تو جور و جفا
میں تو ہوں وفا آشنا چاہے جتنے بھی ستم نئے ایجاد کر
بن کے شعلہء غم بھڑکتا رہا آہوں کی لَے پر دھڑکتا رہا
مرے پہلو میں جو تڑپتا رہا کہتا تھا مر جا پر نہ فریاد کر
کِھلےتھےجس جا قربتوں کے پھول اُڑ رہی ہےحسرتوں کی دھول
کیسے میں جاؤں تجھ کو بھول خدارا مجھے اپنے غم سے آزاد کر
یہ گردِ سفر یہ غبارِ کارواں دیتا ہے گمشدہ منزلوں کا نشاں
جائےگا تُو روٹھ کے جہاں جہاں چل اب بس کر دل اپنا شاد کر
سر پہ دھرا ہے دست اجل رعنا ہوتے ہوتے بھی قتل
دُکھی سی کہی ہے ایک غزل یہ خطا معاف میرے صیاد کر
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






