فرمایش
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujaratلکھ کے دو میرے حالات پہ غزل آج کسسی نے فرمائش کی ہے
پتا نہیں فرمایش کی ہے یا میر ے ہنر کی آزمائش کی ہے
ہے وہ بھی میری طرح کچھ دربدر عشق کا مارا ہوا دوست
گلے نہ ڈال لینا عشق کا طوق بس اتنی سی اُسے ہدایت کی ہے
بڑی کرتے تھےمحبت اک دوسرے سے مجھے ہر بات بتا تا تھا
بکھرگےاک پل میں وہ نظرلگ گئی یا عشق نے آزمائش لی ہے
آیاں ہے بات کبھی عشق کےشہر میں دوریاں بھی چَکرلگاتی ہیں
بڑے بڑےشہنشاہ ڈوب مرےجنہوں نےدوریوں کی آفزائش کی ہے
آےمیرےنَگراُسےگلےلگا لوں گا جبکہ غلطی بھی اُسی کی تھی
ہےسچاعشق اُسے بادشاہ ہو کردل میں اتنی گنجائش دیکھی ہے
کبھی حالات سناتے ہیںاک دوسرےکو نم ہوجاتی ہیں میری آنکھیں
مجھےبھی تھی محبت نفیس شحص سےنکہ آنسوں نےنمائش کی ہے
لکھ کہ نہیں دی غزل کسی کو ہمیں اپنے حالات سے فرصت نہیں
دل نے کہا لکھو مجسف غزل بڑی آس سے کسی نے فرمائش کی ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






