شہر مسائلستان۔۔۔۔۔ہمارا شہر کراچی
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiآبادی کا دباؤ کراچی شہر کی جانب بڑھتا جا رہا ہے
چھوٹا پڑتا جارہا ہے کراچی شبر ، چھوٹا پڑتا جا رہا ہے
صبح مسئلہ کچھ رہا ، تو دو پہر پھر شام بھی مسئلے بنے
اسطرح یہ شہر پورا کا پورا مسائلستان بنتا جا رہا ہے
بجلی ، پانی اور ٹرانسپورٹ کے مسئلے ہونہی بڑھتے رہے
پارکنگ مسئلہ بنا ، تو وھیکلز فٹ پاتھ پر چڑھتے رہے
شہر کا مصروف حصہ تھا کشادہ ، وہ تنگ بنتا جا رہا ہے
اسطرح یہ شہر پورا کا پورا ، مسائلستان بنتا جا رہا ہے
قبضہ گروپ سڑکوں پے ، گلیوں میں ، کہیں فٹ پاتھ پر
کرکے قبضہ بیٹھا ہوا ہے ، ہاتھ رکھے اپنے ہاتھ پر
بن کے یہ کینسر شہریوں کیلئے وبال جان بنتا جا رہا ہے
اسطرح یہ شہر پورا کا پورا ، مسئلستان بنتا جا رہا ہے
پائیں بھلا کیسے قابو ٹریفک کے اس اژدہام پر
تجاوزات ، ریڑیاں ، ٹھیلوں کی کثرت ہو جس مقام پر
شاہراہوں پر کہیں کھڈا ، کہیں کوہان بنتا جا رہا ہے
اسطرح یہ شہر ہورا کا ہورا ، مسائلستان بنتا جا رہا ہے
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا یہ کیسا ہے مشن
چھین لے گی شہر کی روشنی لگتا ہے ایسا ہے مشن
لوڈ شیڈنگ کبھی بریک ڈائون بد ترین بحران بنتا جا رہا ہے
اسطرح یہ شہر پورا کا پورا ، مسائلستان بنتا جا رہا ہے
عبادت گاہیں ، کالج ، یونیورسٹی ، اسکول اور مدرسے
بڑھ گئی تعداد طالب ، مقامے گھٹ گئے اپنی قدر سے
رفتار آبادی کی دھن ، کنبہ بڑا اک شان بنتا جا رہا ہے
اسطرح یہ شہر پورا کا پورا ، مسائلستان بنتا جا رہا ہے
یہ رہا ہسپتال وہ رہا لیبارٹری ، دیکھو ذرا یہ ڈسپنسری
ہر طرف تنگی ہی تنگی ، غور سے دیکھو یا ڈالو نگاہ سرسری
یہ ہا ہا کار پبلک ، دکھ بے درماں ہر آن بنتا جا رہا ہے
اسطرح یہ شہر پورا کا پورا ، مسائلستان بنتا جا رہا ہے
رہزنی ، چوری ، ڈاکہ ذنی ، دھوکہ دہی ، سٹہ اور قمار
کچھ تو باہر کے ہیں ماہر، کچھ کراچی کے جواں بیروزگار
خود کشی دستور مفلسی و مجبوری انسان بنتا جارہا ہے
اسطرح یہ شہر پورا کا پورا ، مسائلستان بنتا جا رہا ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں







