شام ہوتی رہی ساۓ ڈھلتے رہے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Jhangشام ہوتی رہی ساۓ ڈھلتے رہے
بیٹھے چوکھٹ پہ ہم ہاتھ ملتے رہے
ہجر کی ظلمتوں میں میں ڈوبا رہا
دیپ یادوں کے سب یونہی جلتے رہے
جو بھی سوچا تھا کچھ وہ کہا نہ گیا
کتنے ارمان دِل میں مچلتے رہے
اپنا رستا نہ تھا اپنی منزل نہ تھی
آپ کی کھوج میں پھر بھی چلتے رہے
میرے حالات تھوڑے سے کیا ڈھل گئے
رنگ سارے جہاں کے بدلتے رہے
زندگی ایک ”ایسا تماشا“ بنی
دِل زمانے کے جس سے بہلتے رہے
تم سے دیپک زباں بھی نہ بدلی گئی
لوگ چہرے ہزاروں بدلتے رہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






